: توحید کے لغوی معنی
توحید اسلام کا سب سے پہلا اور سب سے اہم عقیدہ ہے۔ تمام انبیاء کی دعوت کا آغاز اسی عقیدے سے ہوا۔توحید کا مادہ “واحد” سے ہے اور اس کے مصادر میں سے”واحد” اور “وحدۃ” زیادہ مشہور ہیں جس کا مطلب ہے اکیلا اور بے مثال ہونا۔ “وحید” یا “واحد” اس کو کہتے ہیں جو اپنی ذات اور صفات میں اکیلی اور بے مثال ہو۔ “واحد” کا واؤ’ ہمزہ سے بدل کر “احد” بنا ہے یہی لفظ اللہ تعالی نے سورہ اخلاص میں استعمال کیا ہے۔
: توحید کی تعریف
توحید سے مراد یہ ہے کہ اللہ اپنی ربوبیت (خالق، مالک، رازق اور متصرف الامور ہونے) میں، اپنی الوہیت (عبادت، اطاعت، اور حاکمیت) میں اور اسماء وصفات اور افعال میں اکیلا اور خاص ہے۔ اسی طرح وہ قادر و مختار، عالم الغیب، الحی القیوم، لازوال اور بے مثال ہے اور ہر قسم کی دعا و ندا، نزرو نیاز، استغاثہ و وسیلہ، محبت وخوف اور توکل صرف اسی سے ہے۔
: توحید کی اقسام
: عام طور پر علماء نے توحید کو قرآن کے بیان کے مطابق تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے
توحید ربوبیت
توحید الوہیت
توحید اسماء وصفات
: توحید ربوبیت
توحید ربوبیت اس بات کے پختہ اعتقاد کا نام ہے کہ اللہ تعالی ہی خالق، مالک اور رازق ہے اور تدبیر کائنات کا تنہا مالک ہے۔
: ارشاد باری تعالٰی ہے
اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ [سورہ الزمر: 62]
اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔
قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ ۔ [یونس: ۳۱]
آپ کہہ دیں کون تم کو آسمانوں اور زمینوں سے رزق دیتا ہے یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں کون بے جو جان سے جاندار کو اور جاندار سے بے جان کو نکالتا ہے کون اس نظم عالم کی تدبیر کر رہا ہے وہ ضرور کہیں گے اللہ تعالی کہو پھر تم ڈرتے کیوں نہیں؟
: توحید الوہیت
توحید الوہیت سے مراد یہ ہے کہ اللہ ہی الہ واحد ہے اور وہی عبادت و اطاعت کے لائق ہے اور عبادت صرف اللہ کے لیے ہے۔ نماز، روزہ، دعا، نذر، سجدہ وغیرہ سب صرف اللہ کے لیے جائز ہیں۔توحید الوہیت بندوں کے افعال سے متعلق ہے کہ وہ اعتقاداً اور عملاً عبادت کی تمام اقسام اور افعال صرف اللّٰہ تعالٰی کیلئے خاص کریں۔ اس کو توحید عبادت اور توحید اطاعت کے نام بھی دئیے گئے ہیں اور حاکمیت بھی توحید الوہیت کی بنیادی قسم ہے۔
ارشاد باری تعالٰی ہے :
وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ [البقرہ: ١٦٣]
اور تمہارا الٰہ بس ایک ہی الٰہ ہے۔ اس رحمن رحیم کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
نیز ارشاد باری تعالٰی ہے :
إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [یوسف: ٤٠]
اللہ کے سوا کسی کی حاکمیت نہیں اس نے حکم دیا ہے کہ تم صرف اس کی عبادت کرو۔
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [سورہ بنی اسرائیل: سورہ23]
اور تمہارے رب نے فیصلہ کیا ہے کہ تم صرف اسی کی عبادت کرو۔
: توحید اسماء وصفات
اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات یکتا، کامل اور بے مثال ہیں۔ نہ اس کے جیسا کوئی ہے، نہ اس جیسی کوئی صفت۔
جس کو اس نے قرآن وحدیث میں ذکر کیا ہے مثلاً العلیم، السمیع، البصیر، الحی القیوم، صفت ید عرش پر بلند ہونا وغیرہ کو اسی طرح مانا جائے جیسا کہ اس نے ذکر کیا ہے۔ اور ان میں تحریف، تمثیل، تاویل، تعطیل اور تکیف نہ کی جائے۔
ارشاد باری تعالٰی ہے :
وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ [الاعراف: ۱۸۰]
اور اللّٰہ ہی کیلئے اچھے اچھے نام ہیں لہذا تم اسے انہی (ناموں) سے پکارو اور چھوڑدو ان (لوگوں) کو جو اس کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں وہ جو کچھ کر رہے ہیں جلد اس کی سزا پائیں گے۔
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ [سورہ الشوریٰ: 11]
اس جیسا کوئی نہیں، اور وہی سننے والا، دیکھنے والا ہے۔
: خلاصہ
صرف اللہ سے امید اور خوف ہوتا ہے، بندہ خوددار بنتا ہے۔
کسی اور کے سامنے جھکنے سے نجات ملتی ہے۔
زندگی میں نظم و ضبط، سچائی اور عدل پیدا ہوتا ہے۔
معاشرتی مساوات اور بھائی چارہ فروغ پاتا ہے۔
توحید ہی اسلام کی اصل روح ہے۔ تمام عبادات، اخلاقیات، اور معاشرتی تعلیمات اسی کے گرد گھومتی ہیں۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ توحید کو سمجھے، مانے، اور اس پر مکمل یقین کے ساتھ عمل کرے، کیونکہ یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی ہے۔
